لولا علیّ لھلک عمر، والی روایت شیعہ اور اہل سنت کی کن کن کتابوں میں ذکر ہوئی ہے ؟

خرید بک لینک
لولا علیّ لھلک عمر، والی روایت شیعہ اور اہل سنت کی کن کن کتابوں میں ذکر ہوئی ہے ؟

سوال:

لولا علیّ لھلک عمر، والی روایت شیعہ اور اہل سنت کی کن کن کتابوں میں ذکر ہوئی ہے ؟

جواب:

عمر کی زبان سے یہ الفاظ مختلف مواقع اور مقامات پر بار بار امیر المؤمنین علی (ع) کے بارے میں ادا ہوئے ہیں۔ ہم اس روایت کے بارے میں سب سے پہلے شیعہ معتبر کتب سے اسناد کو ذکر کرتے ہیں اور پھر اہل سنت کی معتبر کتب سے اس روایت کے سلسلہ سند کو ذکر کریں گے۔ جس سے یہ واضح ہو گا کہ فریقین کے نزدیک یہ روایت معتبر اور قابل اعتماد ہے۔

شیعہ کتب اور روایت، لولا علیّ لھلک عمر:

كافی ، كليني ، ج 7 ، ص 424، تهذيب الاحكام ،

شيخ طوسي ، ج 6 ، ص 606، ج 10 ، ص50،

من لايحضره الفقيه ، شيخ صدوق ، ج 4 ، ص 36 ،

اختصاص ، شيخ مفيد ، ص 111 و 149،

مناقب آل ابي طالب ، ابن شهر آشوب ، ج 1 ، ص 311 ،

المسترشد ، طبري شيعي ، ص 548 و 583 ،

شرح الاخبار ، قاضي نعمان ، ج 2 ، ص 319 ،

مدينه المعاجز ، علامه بحراني ، ج 2 ، ص 460 و ج 5 ، ص 71، الشافي في الامامة ، سيد مرتضي ، ج 1 ، ص 203، ج 3 ، ص ،130 منهاج الكرامة ، علامه حلي ، ص 18،

الطرائف ، سيد ابن طاووس ، ص 255 و 516.

اہل سنت کی کتب اور روایت، لولا علیّ لھلک عمر:

تاويل مختلف الحديث ، ابن قتيبه ، ص 152،

مواقف ، ايجي ، ج 3 ، ص 627 و 636،

شرح مقاصد ، تفتازاني ، ج 2 ، ص 294 ،

التفسير الكبير ، فخررازي ، ج 21 ، ص 22،

شرح نهج البلاغه ، ابن ابي الحديد ، ج 1 ، ص 18و ج 12 ، ص 179، تمهيد الاوائل ، باقلاني ، ص 476 ،

مناقب علي ابن ابيطالب ، ابن مردويه اصفهاني ، ص 88،

ينابيع المودة ، قندوزي حنفي ، ج 1 ، ص 216و ج 2 ، ص 172و ج 3 ، ص 147 ،

تاويل مختلف الحديث ، ابن قتيبه، ج 1 ، ص 162،

تمهيد الاوائل في تلخيص الدلائل ، باقلاني ، ج 1 ، ص 476 و 547 ، الحاوي الكبير ، ماوردي شافعي ، ج 12 ، ص 115 و ج 13 ، ص 213 ، تفسير سمعاني ، ج 5 ، ص 154 ،

المفصل في صنعه الاعراب ، زمخشري ، ج 1 ، ص 432 ،

العواصم من القواصم ، ابوبكر بن عربي ، ج 1 ، ص 203 ،

حاشيه الرملي ، رملي ، ج 4 ص 39 ، الجد الحثيث ،

سعودي غزي عامري ، ج 1 ، ص 186،

بريقه محموديه ، محمد بن محمد خادمي ، ج 2 ص 108،

منع الجليل ، محمد عليش ، ج 9 ، ص 648،

دستور العلماء ، قاضي عبدالنبي نكري، ج 1 ، ص 80.

وہ مواقع کہ جن پر عمر نے ان الفاظ کو بیان کیا:

1 . قال أحمد ابن زهير حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا مؤمل بن إسماعيل حدثنا سفيان الثوري عن يحيي بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال كان عمر يتعوذ بالله من معضلة ليس لها أبو الحسن وقال في المجنونة التي أمر برجمها وفي التي وضعت لستة أشهر فأراد عمر رجمها فقال له علي إن الله تعالي يقول وحملة وفصاله ثلاثون شهرا الحديث وقال له إن الله رفع القلم عن المجنون الحديث فكان عمر يقول لولا علي لهلك عمر.

عمر نے ایک پاگل عورت کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور ایک عورت کہ جس کے ہاں حاملہ ہونے کے 6 مہینے بعد بچہ پیدا ہوا تھا، اس کو بھی عمر نے حکم دیا کہ اسکو سنگسار کر دیا جائے۔ اس پر حضرت علی نے عمر سے کہا کہ بے شک خداوند نے قرآن میں حمل اور دودھ پلانے کی مدت تیس مہینے ذکر کی ہے.....، اور اسی طرح عمر سے کہا کہ: بے شک خداوند نے پاگل انسانوں سے رفع قلم کیا ہے، اور انکے لیے کوئی شئی حلال و حرام و واجب نہیں ہے.....، یہ سب سن کر عمر نے کہا: میں ایسے علمی مسئلے سے پناہ مانگتا ہوں کہ جس کے حل کرنے کے لیے ابو الحسن علی نہ ہوں، اگر علی نہ ہوتے تو میں عمر ہلاک ہو جاتا۔

استيعاب ابن عبدالبر ج 3 ص 1103.

سند روايت:

سعيد بن مسيب (یہ کتاب صحيح بخاری کے راویوں میں سے بھی ہے،)

سعيد بن المسيب ... أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار من كبار الثانية اتفقوا علي أن مرسلاته أصح المراسيل وقال ابن المديني لا أعلم في التابعين أوسع علما منه.

علماء نے اتفاق کیا ہے کہ اسکی روایات صحیح ہیں اور ابن مدینی نے کہا ہے کہ: تابعین میں سے کوئی بھی سعید ابن مسیب سے زیادہ عالم نہیں ہے۔

تقريب التهذيب - ابن حجر - ج 1 ص 364.

يحيی بن سعيد ( یہ کتاب صحیح بخاری کے راویوں میں سے بھی ہے،)

يحيي بن سعيد بن قيس بن عمرو ، الإمام أبو سعيد الأنصاري ، قاضي السفاح ، عن أنس ، وابن المسيب ، وعنه مالك ، والقطان ، حافظ فقيه حجة ، مات 143

یحیی حافظ و فقیہ ہے اور اسکی روایات حجت و معتبر ہیں۔

الكاشف في معرفة من له رواية في كتب الستة - الذهبي - ج 2 ص 366.

يحيي بن سعيد بن قيس الأنصاري المدني أبو سعيد القاضي ثقة ثبت ، من الخامسة مات سنة أربع وأربعين أو بعدها / ع .

یحیی ابن سعید ایک ثقہ راوی ہے.....،

تقريب التهذيب - ابن حجر - ج 2 ص 303.

سفيان ثوری (یہ کتاب صحيح بخاری کے راویوں میں سے بھی ہے،)

وقال شعبة ، وسفيان بن عيينة ، وأبو عاصم النبيل ، ويحيي بن معين ،

نماز...

ما را در سایت نماز دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 60 تاريخ: شنبه 4 اسفند 1397 ساعت: 22:36

صفحه بندی