قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿الأحزاب: ٥٦﴾ اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ اِس آیت کے نزول کے بعد صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درود بھیجنے کا طریقہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر یوں درود پڑھو " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " (صحیح بخاری/حدیث 4797، 6357، 3370۔ صحیح مُسلم/ حدیث 405، 406۔ سُنن ابی ماجہ/ حدیث 904، 906۔ سُنن ابی داؤد/ حدیث 978۔ سنن ترمذی/ حدیث 483، 3220، سنن نسائی/حدیث 1285) صحاحِ ستہ، مُسند امام احمد بن حنبل، مؤطا امام مالک، مُسند امام شافعی، معاجمِ امام طبرانی اور دیگر بیسیوں کتبِ احادیث میں یہ درود مذکور ہے۔ اِس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی آل کو بھی درود میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آل پر درود بھیجنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے کے عین مطابق اور حکمِ نبوی کی تکمیل ہے، اِسے ترک کرنا، حکمِ نبوی کی مخالفت ہے۔
اہلِ سنت نے اموی حکمرانوں سے تقیہ کرتے ہوئے آل پر درود کو ترک کیا:
اب آتے ہیں اِس بات کی طرف کہ اہلِ سنت نماز کے علاوہ اپنے درود میں "وآلہ" کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟ صرف اتنا کیوں کہتے ہیں کہ مُحمد صلی اللہ وسلم۔۔۔ اور آل پر درود نہیں پڑھتے؟ حافظ ابنِ حجر عسقلانی کی مشہور فقہی کتاب "بُلوغ المرام" کے شارح محمد بن اسماعیل، امیر صنعانی " سُبُل السلام شرح بلوغ المرام " میں تفصیل سے لکھتے ہیں کہ نماز میں نبی پاک (ص) پر درود بھیجنا ہمارے آئمہ و اسلاف کی ایک جماعت کے نزدیک واجب ہے، صحیح حدیث کی رُو سے آل پر بھی درود واجب ہے۔ امیر صنعانی لمبی بحث کے بعد لکھتے ہیں کہ میں نے غور کیا کہ احادیثِ نبویہ میں آل پر بھی درود بھیجا گیا ہے تو ہمارے علماء نے آل پر درود کیوں ترک کردیا؟ خود ہی فرماتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ بنی اُمیہ کے حکمرانوں کو آلِ محمد کا ذکر پسند نہ تھا۔ ہمارے علماء نے تقیہ کرتے ہوئے آل پر درود کو ترک کرنے کی غلطی کی۔ گزرتے وقت کے ساتھ بعد والے علماء نے پہلے والوں کی روش کو ہی اپنایا، یوں احادیث میں آل پر درود کے حکم کے باوجود، اُن پر درود نہیں بھیجا جاتا، پس احادیث کی روشنی میں آل پر بھی درود بھیجنا چاہیے۔ علامہ امیر صنعانی کی اصل عبارت یہ ہے
"۔۔۔نَعْلَمُ أَنَّ حَذْفَ لَفْظِ الْآلِ مِنْ الصَّلَاةِ كَمَا يَقَعُ فِي كُتُبِ الْحَدِيثِ لَيْسَ عَلَى مَا يَنْبَغِي؛ وَكُنْت سَأَلْت عَنْهُ قَدِيمًا، فَأُجِبْت أَنَّهُ قَدْ صَحَّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِلَا رِيبَ: كَيْفِيَّةُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمْ رُوَاتُهَا، وَكَأَنَّهُمْ حَذَفُوهَا خَطَأً تَقِيَّةً لَمَّا كَانَ فِي الدَّوْلَةِ الْأُمَوِيَّةِ مَنْ يَكْرَهُ ذِكْرَهُمْ، ثُمَّ اسْتَمَرَّ عَلَيْهِ عَمَلُ النَّاسِ مُتَابَعَةً مِنْ الْآخِرِ لِلْأَوَّلِ، فَلَا وَجْهَ لَهُ۔۔۔"
[سُبل السلام، جلد 1، صفحہ 288 (التَّحْمِيد وَالثَّنَاء وَالصَّلَاة عَلَيْهِ النَّبِيّ فِي التَّشَهُّد)]
درود کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تعلیم دیا ہوا ہے، آل کے بغیر درود نامکمل ہے:
بعض روایات میں آل کے بغیر پڑھے جانے والے درود کو دُم بریدہ (ناقص/ابتر) درود شمار کیا گیا ہے۔ ملحوظ رہے جیسے قرآن نے نماز پڑھنے کا حکم دیا، اِس کا طریقہ نہیں بتایا، طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سکھایا، اِسی طرح قرآن نے نبی کریم پر درود بھجینے کا حکم دیا لیکن طریقہ نہیں بتایا۔ درود بھیجنے کا طریقہ نبی کریم نے بتایا جس میں آپ نے آل کو شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ علامہ امیر صنعانی نے لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجنا اور آل پر درود نہ بھیجنا گویا ایسے ہی ہے جیسے آپ پر درود بھیجا ہی نہیں۔ اصل کلام ملاحظہ کیجیے
" نَقُولُ: الصَّلَاةُ عَلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا تَتِمُّ وَيَكُونُ الْعَبْدُ مُمْتَثِلًا بِهَا، حَتَّى يَأْتِيَ اللَّفْظُ النَّبَوِيُّ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ الْآلِ، لِأَنَّهُ قَالَ السَّائِلُ: " كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْك " فَأَجَابَهُ بِالْكَيْفِيَّةِ، أَنَّهَا الصَّلَاةُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ، فَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِالْآلِ فَمَا صَلَّى عَلَيْهِ بِالْكَيْفِيَّةِ الَّتِي أُمِرَ بِهَا، فَلَا يَكُونُ مُمْتَثِلًا لِلْأَمْرِ، فَلَا يَكُونُ مُصَلِّيًا عَلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"
[سُبل السلام، جلد 1، صفحہ 288 (التَّحْمِيد وَالثَّنَاء وَالصَّلَاة عَلَيْهِ النَّبِيّ فِي التَّشَهُّد)]
مفہومِ کلام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود مکمل نہیں ہوتا، نہ ہی بندہ درود بھیجنے والا کہلا سکتا ہے جب تک آل والا نبوی لفظ نہ ذکر کرلے، کیونکہ سائل نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ نے درود کی کیفیت بتائی ہے جس میں آپ کے ساتھ آل پر بھی درود ہے۔ جس نے آل پر درود نہ بھیجا، اُس نے اُس طرح درود نہیں بھیجا جیسے حکم دیا گیا تھا، تو وہ اِس امرِ نبوی (درود بھیجنے) پر عمل کرنے والا شمار نہ ہوگا، پس اُس نے آپ پر درود نہیں بھیجا۔
احادیث سے یہی بات امام شافعیؒ نے بھی سمجھی ہے، چنانچہ وہ اپنے معروف شعر میں کہتے ہیں کہ اے آلِ رسول! تمہاری شان کے لیے یہی کافی ہے کہ جو آدمی تُمہارے اوپر درود نہ بھیجے اُس کی نماز نہیں ہوسکتی۔
خلاصہ: قرآن مجید نے نبی کریم پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ نبی کریم نے اپنے اوپر درود بھیجنے کا طریقہ سکھایا، جس میں آل کو بھی درود میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ شیعہ و سُنی سبھی مسلمان محدثین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اُس درود کو نقل کیا ہے جس میں آپ کی آل کا ذکر بھی ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم پر درود مکمل ہی تب پوتا ہے جب ساتھ آل پر بھی درود بھیجا جائے۔ آل کے بغیر، نبی کریم پر درود بھیجنا نبی کریم کے ارشاد کی مخالفت اور نامکمل عمل ہے۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ۔
نماز...ما را در سایت نماز دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 61